Friday, 5 August 2022

روح کا کرب ہے جینے کی سزا ہونے کو

 روح کا کرب ہے جینے کی سزا ہونے کو

ہم بھی ہیں تیری طرح خود سے جدا ہونے کو

لاکھ ہو نشترِ غم سینہ کشا ہونے کو

میرا دامن نہیں پھولوں کی قبا ہونے کو

ذوقِ پرواز سنورتا ہے گرفتاری سے

ہم تہِ دام نہیں آئے رہا ہونے کو

آپ قائل ہوں جفا کے تو یہی کیا کم ہے

کون کہتا ہے پشیمان جفا ہونے کو

تلخیٔ کام و دہن آ گئی دل تک ساقی

دیر کتنی ہے درِ مے کدہ وا ہونے کو

مسلک دیدہ وراں اہل ہوس کیا جانیں

نارسی کہتے ہیں منزل پہ رسا ہونے کو

کس قدر گرم ہے بازار سیاستکاری

دیر لگتی نہیں ہنگامہ بپا ہونے کو

حسن غافل نہیں اربابِ وفا سے لیکن

کوئی تو بات ہو شایان جفا ہونے کو

ہِل نہ جائے کہیں بنیادِ زمین دل کی

غم کا طوفان ہے اب حد سے سوا ہونے کو

خفگی بھی تِری از راہِ عنایت ہے، مگر

لوگ کیا سمجھیں گے اس طرح خفا ہونے کو

مدتوں بعد تو خوابِ شبِ عشرت ٹوٹا

وقت درکار ہے اب ہوش بجا ہونے کو

شوقِ زنجیر عناصر مجھے کیا روکے گی

حکم کی دیر ہے زِنداں سے رہا ہونے کو


خواجہ شوق

No comments:

Post a Comment