Friday, 5 August 2022

گھر میں ہوں گو حنوط شدہ لاش کی طرح

 گھر میں ہوں گو حنوط شدہ لاش کی طرح

پھرتی ہے روح شہر میں اوباش کی طرح

یہ جانِ ناتواں بھی ہے کیا ثمرۂ حیات

رکھ دی گئی ہے کاٹ کے اک قاش کی طرح

شاید مِرا وجود ہی پسماندہ خاک ہو

خالی ہے بزمِ یار میں قلاش کی طرح

کھنچتا چلا ہوں میں کسی پاتال کی طرف

ہر انجمن ہے مرکزِ پرخاش کی طرح

سو بار مسخ ہو کے بھی تعمیر زندگی

پُر نور ہے منارۂ ضو پاش کی طرح

باقی ہے ہم سے دامنِ روزِ جزا کی لاج

گو زندگی عطا ہوئی پاداش کی طرح


کاوش بدری

No comments:

Post a Comment