Tuesday, 13 April 2021

درد نسبتاً کم ہے آج دل کے چھالوں میں

درد نسبتاً کم ہے آج دل کے چھالوں میں

پھر بھٹک نہ جاؤں میں صبح کے اجالوں میں

زندگی کی راہوں میں یوں نہ چھوڑئیے تنہا

ہم بھی ہیں زمانے سے ساتھ چلنے والوں میں

مستقل خموشی کا کچھ تو حل نکل آتا

ہم اگر نہ کھو جاتے وقت کے سوالوں میں

آج ان کی زلفوں کی اور بڑھ گئی قیمت

رات بھی مقید ہے الجھے الجھے بالوں میں

موت اور مشکل ہو زندگی کے ماروں کی

خون دل ملا دیجے زہر کے پیالوں میں

میں تو کچھ نہیں کہتا خود ملاحظہ کیجے

کس کا نام چلتا ہے آج خوش جمالوں میں

نرم نرم لب ہیں یا پنکھڑی کنول کی ہے

بند ہے شفق ان کے پھول جیسے گالوں میں

وہ چراغ کل شب کو بجھ گیا سر محفل

جس کو ڈھونڈتے ہو تم آج کے اجالوں میں

لاکھ مجھ کو وہ بھولیں پھر بھی ہے یقیں نیر

منفرد رہوں گا میں یاد کرنے والوں میں


صلاح الدین نیر

No comments:

Post a Comment