Friday, 21 May 2021

چپکے چپکے رات کو تشریف جب لاتا ہے چاند

 چاند 


چپکے چپکے رات کو تشریف جب لاتا ہے چاند

ہر طرف دھرتی پہ کیسا نور برساتا ہے چاند 

پہلے دن کے چاند کو سب لوگ کہتے ہیں ہلال 

چودھویں تاریخ ہو تو بدر کہلاتا ہے چاند 

پر سکوں ماحول تارے کہکشاں ٹھنڈی ہوا 

رات کی محفل میں اکثر رقص فرماتا ہے چاند 

جب گھٹا گھنگھور آتی ہے کبھی برسات میں 

اوڑھ کر سپنوں کی چادر شب میں سو جاتا ہے چاند 

کہتی ہے بچہ کو میرا چاند کہتے پیار سے 

استعارہ پیار میں اک ماں کے بن جاتا ہے چاند 

ہر گھڑی بے تاب ہیں ماما کے درشن کے لیے 

چھوٹے بچوں کے دلوں کو خوب بہلاتا ہے چاند 

تم کو بھی بچپن میں اے ابرار کتنا پیار تھا 

جس طرح دانش میاں کو آج کل بھاتا تھا چاند 


ابرار کرتپوری

No comments:

Post a Comment