Friday, 21 May 2021

تو کاش ملے مجھ کو اکیلی تو بتاؤں

 تو کاش ملے مجھ کو اکیلی تو بتاؤں

سلجھے مری قسمت کی پہیلی تو بتاؤں

آنے سے ترے پہلے خبر دے دی ہوا نے

آنکھوں پہ مرے رکھ تو ہتھیلی تو بتاؤں

مہکے ہیں ترے جسم کی خوشبو سے فضائیں

ناراض نہ ہوں چمپا چنبیلی تو بتاؤں

کیوں تیرے مقدر میں نہیں میری محبت

دکھلائے تو بے رنگ ہتھیلی تو بتاؤں

ویرانیاں تنہائیاں موسم ہے خزاں کا

انوار کرو دل کی حویلی تو بتاؤں

چہرے پہ مرے راز ٹٹولا نہ کرو تم

ہم راز بنے آنکھ نشیلی تو بتاؤں

اظہار محبت کی طلب دل میں لیے ہوں

تنہا جو ملے تیری سہیلی تو بتاؤں

آنکھوں میں تری یاد کہیں زخم نہ کر دے

نکلے یہ اگر پھانس نکیلی تو بتاؤں


چاند اکبرآبادی

No comments:

Post a Comment