Friday, 21 May 2021

ہوا کے دوش پہ یہ جو سوار پانی ہے

 ہوا کے دوش پہ یہ جو سوار پانی ہے

مرا یقین کرو بے شمار پانی ہے

کہ پیاس بجھ نہیں پائی ہے اس سے پیاسوں کی

اسی لیے تو بہت شرمسار پانی ہے

بجھے کچھ ایسے ندی میں چراغ بہتے ہوئے

ہوائیں ہنسنے لگیں سوگوار پانی ہے

تو ایک جھیل ہے سیف الملوک کے جیسی

میں ایسا تھر کہ جہاں آر پار پانی ہے

میں دیکھ ہاتھ میں مشکیزہ لے کے آیا ہوں

کہ ایک پیاسے کو یہ ریگزار پانی ہے


احمد عرفان

No comments:

Post a Comment