Friday, 21 May 2021

لطف گناہ میں ملا اور نہ مزہ ثواب میں

 لطف گناہ میں ملا اور نہ مزہ ثواب میں

عمر تمام کٹ گئی کاوش احتساب میں

تیرے شباب نے کیا مجھ کو جنوں سے آشنا

میرے جنوں نے بھر دیے رنگ تری شباب میں

آہ یہ دل کہ جاں گداز جوشش اضطراب ہے

ہائے وہ دور جب کبھی لطف تھا اضطراب میں

قلب تڑپ تڑپ اٹھا روح لرز لرز گئی

بجلیاں تھیں بھری ہوئی زمزمۂ رباب میں

چرخ بھی مے پرست ہے بزم زمیں بھی مست ہے

غرق بلند و پست ہے جلوۂ ماہتاب میں

میرے لیے عجیب ہیں تیری یہ مسکراہٹیں

جاگ رہا ہوں یا تجھے دیکھ رہا ہوں خواب میں

میرے سکوت میں نہاں ہے مرے دل کی داستاں

جھک گئی چشم فتنہ زا ڈوب گئی حجاب میں

لذتِ جامِ جم کبھی، تلخئ زہرِ غم کبھی

عشرتِ زیست ہے اثر گردش انقلاب میں


اثر صہبائی

No comments:

Post a Comment