Friday, 21 May 2021

کمرے میں دھواں درد کی پہچان بنا تھا

 کمرے میں دھواں درد کی پہچان بنا تھا

کل رات کوئی پھر مرا مہمان بنا تھا

بستر میں چلی آئیں مچلتی ہوئی کرنیں

آغوش میں تکیہ تھا سو انجان بنا تھا

وہ میں تھا مرا سایہ تھا یا سائے کا سایہ

آئینہ مقابل تھا میں حیران بنا تھا

نظروں سے چراتا رہا جسموں کی حلاوت

سنتے ہیں کوئی صاحب ایمان بنا تھا

ندی میں چھپا چاند تھا ساحل پہ خموشی

ہر رنگ لہو رنگ کا زندان بنا تھا

حرفوں کا بنا تھا کہ معانی کا خزینہ

ہر شعر مرا بحث کا عنوان بنا تھا


ابرار اعظمی

No comments:

Post a Comment