Saturday, 13 November 2021

پیار کے ریشم لچھوں کو خود ہی الجھاتی ہوں

 ریشم جال


پیار کے ریشم لچھوں کو خود ہی الجھاتی ہوں

پہروں بیٹھ دھنک رنگوں کو پھر سلجھاتی ہوں

میری چاہت نے کاتے ہیں ریشم کے یہ سار

ان میں الجھ جانے سے میں پھر کیوں گھبراتی ہوں

اپنے خول میں ریشم کا کیڑا بھی خوش تو نہیں

میں بھی تتلی بن کر موقع پا اڑ جاتی ہوں


شہلا نقوی

No comments:

Post a Comment