لفظ
لفظ کی حقیقت کو شعر سے بیاں کرنا
سب کو تو نہیں آتا
بزم جانگساری میں چشم ںم نہاں کرنا
سب کو تو نہیں آتا
کچھ درونِ خانہ میں ان کہی صدائیں ہیں
سسکیاں ہیں آہیں ہیں
بحر کج ادائی میں کار نا خدائی میں
ہے سفینہ ہائے دل
حرف بادبانی کے حوصلوں سے جاری ہے
اور جنون طاری ہے
عارضی صحیفوں سے دائمی محبت ہے
لفظ کی کرامت ہے
سب گماں لایعنی، سب فریب بے مایا
حرف اک اکائی ہے
لفظ اک حقیقت ہے
لفظ ہی محبت ہے
فاطمہ سید
No comments:
Post a Comment