Saturday, 10 September 2022

لفظ کی حقیقت کو شعر سے بیاں کرنا

 لفظ


لفظ کی حقیقت کو شعر سے بیاں کرنا 

سب کو تو نہیں آتا 

بزم جانگساری میں چشم ںم نہاں کرنا 

سب کو تو نہیں آتا 

کچھ درونِ خانہ میں ان کہی صدائیں ہیں

سسکیاں ہیں آہیں ہیں 

بحر کج ادائی میں کار نا خدائی میں 

ہے سفینہ ہائے دل 

حرف بادبانی کے حوصلوں سے جاری ہے 

اور جنون طاری ہے 

عارضی صحیفوں سے دائمی محبت ہے 

لفظ کی کرامت ہے 

سب گماں لایعنی، سب فریب بے مایا 

حرف اک اکائی ہے 

لفظ اک حقیقت ہے 

لفظ ہی محبت ہے 


فاطمہ سید

No comments:

Post a Comment