کوئی بھی نہیں جن کا زمانے میں خریدار
حق کی وہ صلیبیں♰♰ ہیں فقط زینت بازار
طوفاں کا رخ پھیرنے والا نہں ملتا🌊
کہنے کو زمانے میں ہر اک فن کے ہیں فنکار
صحرا کے وہی ایک سے دن ایک سی راتیں
گلشن کے شب و روز کا دستور نہ کردار
یہ یاد رہے موج و تلاطم تھے کبھی تم
رہتی ہے رہے تشنہ لبی بر سرِ پیکار
رونے کو شمیم ایک غمِ دل ہی نہیں ہے
ہیں اور بھی غم، اور بھی دکھ، اور بھی آزار
مبارک شمیم
No comments:
Post a Comment