Monday, 14 December 2020

خوابوں کا انتخاب بدلتا دکھائی دے

 خوابوں کا انتخاب بدلتا دکھائی دے 

کاش اب کہ اختیار سنورتا دکھائی دے 

صیاد کے ہنر کی ستائش نہیں ہو اب 

جس کو ہے پر نصیب وہ اڑتا دکھائی دے 

اتنی نہ انتشار کی حدت ہو رو برو 

انساں غم حیات میں جلتا دکھائی دے 

کیا وہ حسابِ درس میں رکھے گا کائنات 

جس کا یہاں وجود شکستہ دکھائی دے 


اظہر ہاشمی

No comments:

Post a Comment