Monday, 14 December 2020

میں ترا نام پکاروں تو ہوا رقص کرے

 میں ترا نام پکاروں تو ہوا رقص کرے

بوئے گل جھومے پھرے، بادِ صبا رقص کرے

گر ترے ذکر کا میں جام بنا کر پی لوں

خود نشہ رقص کرے اور مے کدہ رقص کرے

تری دھڑکن کو جو احساسِ محبت ہو نصیب

دل تڑپتا ہی رہے، بن کے گدا رقص کرے

راہئ عشقِ حقیقی کے لیے لازم ہے

دل میں ہر طور فقط ذکرِ خدا رقص کرے

کیسی تاثیر عطا کی ہے خدا نے اس کو

یار کے ہاتھ میں آنے کو دوا رقص کرے

یاد آ جائے اگر یار تو پھر شعر و سخن

بھلے پورا ہو یا آدھا یا سوا رقص کرے

میں نے بسمل سے کہا رقص کی تکمیل بتا

اُس نے بس دو ہی کیے لفظ ادا رقص کرے

عشق کے ہاتھ پہ بیعت ہوا ہے دل میرا

اسے دلدار نے بخشی ہے سزا رقص کرے

میں نے پوچھا مریضِ عشق کو دعا یا دوا؟

بولے دھیمے سے اس کو بتا؛ رقص کرے

اے علی! مہرؔ علی کا جو کبھی ذکر چلے

خامشی جھومے پھرے اور سدا رقص کرے


علی سرمد

No comments:

Post a Comment