Monday, 14 December 2020

دھوپ کے ماروں کو جس نے پھیل کر سایا دیا

 دھوپ کے ماروں کو جس نے پھیل کر سایا دیا

ظالموں نے اس شجر کو جان کر کٹوا دیا

مثلِ گل جن میں مہکتا تھا وہ موسم اب کہاں

اس بلا کی دھوپ نے سارا بدن جھلسا دیا

میں تہی دستوں کی صف میں ورنہ کیوں آتا نظر

خود مرے مفلوج ہاتھوں نے مجھے دھوکا دیا

اب کوئی الجھن نہیں تو جی الجھتا ہے بہت

مجھ کو اے شام و سحر کس موڑ پر ٹھیرا دیا

اور گہری ہو گئیں اس سے تو یہ تاریکیاں

راستے میں رکھ دیا کس نے یہ ننھا سا دیا

وسعتوں میں جس کی گم ہے میری ذات و کائنات

زندگی تُو نے مجھے اک زخم تو ایسا دیا

اپنی صورت دیکھنے کو خود ترستا ہوں شمیم

دینے والے نے مجھے بے خال و خط چہرا دیا


مبارک شمیم

No comments:

Post a Comment