Monday, 14 December 2020

اتنی چھوٹی بات نہیں ہے

 اتنی چھوٹی بات نہیں ہے


اتنی چھوٹی بات نہیں ہے

اتنی سیدھی راہ نہیں یہ چاہت والی

اتنا تن آسانی کا یہ کام نہیں

اتنے موسم گیان میں رہنا پڑتا ہے

اتنے جنگل خود میں کاٹنے پڑتے ہیں

اتنی راتیں دھیان کو جاگنا ہوتا ہے

اتنی شامیں آنکھیں خالی رہتی ہیں

پہلے کسی کے نام سے اپنا آپ سجانا

اور پھر چاند ستاروں سا روشن ہو جانا

ایک نٸی ترتیب کے اندر

خوشبو، خواب اور رنگ کو لانا

سب آوازیں جوڑ کے اک آہنگ بنانا

اس میں ایک نفی ہے

جو سب کچھ رد کر سکتی ہے

یہ جو محبت ہے

صرف اثبات نہیں ہے

اتنی چھوٹی بات نہیں ہے


ازہر ندیم

No comments:

Post a Comment