اتنی چھوٹی بات نہیں ہے
اتنی چھوٹی بات نہیں ہے
اتنی سیدھی راہ نہیں یہ چاہت والی
اتنا تن آسانی کا یہ کام نہیں
اتنے موسم گیان میں رہنا پڑتا ہے
اتنے جنگل خود میں کاٹنے پڑتے ہیں
اتنی راتیں دھیان کو جاگنا ہوتا ہے
اتنی شامیں آنکھیں خالی رہتی ہیں
پہلے کسی کے نام سے اپنا آپ سجانا
اور پھر چاند ستاروں سا روشن ہو جانا
ایک نٸی ترتیب کے اندر
خوشبو، خواب اور رنگ کو لانا
سب آوازیں جوڑ کے اک آہنگ بنانا
اس میں ایک نفی ہے
جو سب کچھ رد کر سکتی ہے
یہ جو محبت ہے
صرف اثبات نہیں ہے
اتنی چھوٹی بات نہیں ہے
ازہر ندیم
No comments:
Post a Comment