وفا خلوص کا سنگار روز کرتی ہے
یوں دھیرے دھیرے مری زندگی سنورتی ہے
کوئی حیات زمانہ کو ہے عزیز بہت
کوئی حیات ہے کہ روز روز مرتی ہے
ترے چراغ کا فانوس خود ہوا ہے اور
مرے چراغ سے ظالم ہوا گزرتی ہے
دعا یہ کیجیے یارو کہ ہوش میں آؤں
مری نگاہ محبت تلاش کرتی ہے
ستم گروں کو عبادت گزار مت جانو
خدا کی بندگی اظہر خدا سے ڈرتی ہے
اظہر ہاشمی
No comments:
Post a Comment