خوش گمانی تھی کہ دل کا زخم اچھا ہو گیا
وقت کی نشتر زنی سے اور گہرا ہو گیا
ایک سایا ہمسفر تھا,،. ہو گیا وہ بھی جدا
میں بھی کتنا اس بھری دنیا میں تنہا ہو گیا
پھر یہ ساری رات گزری کروٹوں کے شغل میں
سوچتے ہی سوچتے لو پھر سویرا ہو گیا
آئینے کے روبرو رہتا ہوں الجھن کا شکار
میرا چہرا تھا نہ جانے کس کا چہرا ہو گیا
یاد آتا ہے اب تک وہ نگارستاں شمیم
لکھنئو چھوڑے گو اک زمانا ہو گیا
مبارک شمیم
No comments:
Post a Comment