Sunday, 13 December 2020

یہ کم نہیں کے وہی شام کا ستارہ ہے

یہ کم نہیں کے وہی شام کا ستارہ ہے

جسے فضیلت تنہائی نے ابھارا ہے

کہیں سراغ نہیں ہے کسی بھی قاتل کا

لہولہان مگر شہر کا نظارہ ہے

میں جا رہا ہوں مکمل وجود پانے کو

مجھے بھی صورتِ امکاں نے اب پکارا ہے

چراغ جلتا رہے گا ہمیشہ الفت کا

یہی وجود کے انوار کا اشارہ ہے

یہ کیسی صورت مہتاب کھل رہی ہے مگر

زمیں پہ کس نے اسے عرش سے اتارا ہے

انا شکار پہ ظاہر یہ کب ہوا اظہر

اسے نبھانے میں تقدیر کا خسارا ہے


اظہر ہاشمی

No comments:

Post a Comment