گھر میں آتش گیر سب سامان ہے
آگ لگنے کا بہت امکان ہے
تشنگی کی حد میں ہر منظر سراب
ہر نفس میں ایک ریگستان ہے
سخت ہے خود آگہی کا مرحلہ
خود فریبی راستہ آسان ہے
جس کو دشمن بھی نظر آئے رفیق
واقعی وہ آدمی نادان ہے
کاش ہم بھی اپنی یہ بے چہرگی
آئینے میں دیکھتے ارمان ہے
زندگی خود مرگِ پیہم ہے شمیم
جاں کنی کے وقت میں انسان ہے
مبارک شمیم
No comments:
Post a Comment