تمہاری دید کے بیمار ہو رہے تھے ہم
یہیں کہیں پہ گرفتار ہو رہے تھے ہم
ہماری راہ میں حائل ہوئی تھی اپنی انا
خود اپنے واسطے دیوار ہو رہے تھے ہم
بنائے بیٹھے تھے کچھ یار پل صراط مگر
درود پڑھتے ہوئے پار ہو رہے تھے ہم
تری نگاہ نے انمول کر دیا، ورنہ
پڑے پڑے بھی تو بیکار ہو رہے تھے ہم
یہ کون شخص ہمیں دائرہ نما دانش
یہ کس کا حکم تھا پرکار ہو رہے تھے ہم
دانش حیات
No comments:
Post a Comment