Monday, 11 January 2021

یا تو جینے سے ڈر گیا ہوں میں

 یا تو جینے سے ڈر گیا ہوں میں

یا حقیقت میں مر گیا ہوں میں

مجھ سے ڈرتے ہیں اب در و دیوار

بعد مدت جو گھر گیا ہوں میں

اب نہ سوچوں گا بات طے کی تھی

بات کر کے مُکر گیا ہوں میں

موت دے گی فرار کا رستہ

زندگی سے تو ڈر گیا ہوں میں

عکس اس کا بنا کے کاغذ پر

رنگ لفظوں میں بھر گیا ہوں میں

میں کہانی میں لوٹ آوں گا

یہ نہ سمجھو کہ مر گیا ہوں میں

بحرِ غم دیکھ تو تِرے اندر

موج بن کر اتر گیا ہوں میں


عمیر قریشی

No comments:

Post a Comment