Wednesday, 13 January 2021

کہاں ہم رہے پھر کہاں دل رہے گا

 کہاں ہم رہے پھر کہاں دل رہے گا 

اسی طرح گر تُو مقابل رہے گا 

کھلی جب گِرہ بند ہستی کی تجھ سے 

تو عقدہ کوئی پھر نہ مشکل رہے گا 

دل خلق میں تخم احساں کے بو لے 

یہی کشت دنیا کا حاصل رہے گا 

حجاب خودی اٹھ گیا جب کہ دل سے 

تو پردہ کوئی پھر نہ حائل رہے گا 

نہ پہنچے گا مقصد کو کم ہمتی سے 

جو سالک طلب گارِ منزل رہے گا 

نہ ہو گا تو آگاہ عرفانِ حق سے 

گر اپنی حقیقت سے غافل رہے گا 

خفا مت ہو بیدار اندیشہ کیا ہے 

ملا گر نہ وہ آج کل مل رہے گا 


میر محمد بیدار

No comments:

Post a Comment