Wednesday, 13 January 2021

اب تم کو ہی ساون کا سندیسہ نہیں بننا

 اب تم کو ہی ساون کا سندیسہ نہیں بننا

مجھ کو بھی کسی اور کا رستہ نہیں بننا

کہتی ہے کہ آنکھوں سے سمندر کو نکالو

ہنستی ہے کہ تم سے تو کنارہ نہیں بننا

محتاط ہے اتنی کہ کبھی خط نہیں لکھتی

کہتی ہے مجھے اوروں کے جیسا نہیں بننا

تصویر بناؤں تو بگڑ جاتی ہے مجھ سے

ایسا نہیں بننا مجھے ویسا نہیں بننا

اس طرح کے لب کون تراشے گا دوبارہ

اس طرح کا چہرہ تو کسی کا نہیں بننا

چہرے پہ کسی اور کی پلکیں نہیں جھکنی

آنکھوں میں کسی اور کا نقشہ نہیں بننا

میں سوچ رہا ہوں کہ میں ہوں بھی کہ نہیں ہوں

تم ضد پہ اڑی ہو کہ کسی کا نہیں بننا

میں رات کی اینٹیں تو بہت جوڑ رہا ہوں

پر مجھ سے تیرے دن کا دریچہ نہیں بننا

انکار تو یوں کرتی ہے جیسے کہ کبھی بھی

چھاؤں نہیں بننا اسے سایا نہیں بننا

اس درد کی تحویل میں رہتے ہوئے ہم کو

چپ چاپ بکھرنا ہے تماشا نہیں بننا

اس نے مجھے رکھنا ہی نہیں آنکھوں میں عامر

اور مجھ سے کوئی اور ٹھکانہ نہیں بننا


عامر سہیل

No comments:

Post a Comment