سانس گھٹنے لگی تھی وقت کی رفتار کے ساتھ
عشق میں موت کا خدشا بھی تھا آزار کے ساتھ
شور باہر کا جو اندر نہیں آنے دیتی
میں وہ سنسان گلی ہوں کسی بازار کے ساتھ
گھر بچایا تھا مِرا اس نے ہی مسماری سے
ایک دیوار جڑی تھی مِری دیوار کے ساتھ
تیرے چہرے سے کسی روز تو اترے گا نقاب
پھر کہانی بھی کھلے گی تِرے کردار کے ساتھ
گھر بدلتے ہوئے تصویر پرانی تھی ملی
میں کہ بیٹھا ہوا تھا اپنے ہی اغیار کے ساتھ
حسن بے مثل کو تحریر میں لانے کے لیے
تجھ پہ نظمیں بھی لکھیں ہیں میں نے اشعار کے ساتھ
پھول برساتے ہوئے لایا گیا مقتل میں
کچھ تعلق ہی پرانا تھا مِرا دار کے ساتھ
اس کا رونا تو مِری جان ہی لے لے گا عمیر
جو نمی آنکھ میں بھر دیتا ہے گفتار کے ساتھ
عمیر قریشی
No comments:
Post a Comment