Wednesday, 13 January 2021

سانس گھٹنے لگی تھی وقت کی رفتار کے ساتھ

 سانس گھٹنے لگی تھی وقت کی رفتار کے ساتھ

عشق میں موت کا خدشا بھی تھا آزار کے ساتھ

شور باہر کا جو اندر نہیں آنے دیتی

میں وہ سنسان گلی ہوں کسی بازار کے ساتھ

گھر بچایا تھا مِرا اس نے ہی مسماری سے

ایک دیوار جڑی تھی مِری دیوار کے ساتھ

تیرے چہرے سے کسی روز تو اترے گا نقاب

پھر کہانی بھی کھلے گی تِرے کردار کے ساتھ

گھر بدلتے ہوئے تصویر پرانی تھی ملی

میں کہ بیٹھا ہوا تھا اپنے ہی اغیار کے ساتھ

حسن بے مثل کو تحریر میں لانے کے لیے

تجھ پہ نظمیں بھی لکھیں ہیں میں نے اشعار کے ساتھ

پھول برساتے ہوئے لایا گیا مقتل میں

کچھ تعلق ہی پرانا تھا مِرا دار کے ساتھ

اس کا رونا تو مِری جان ہی لے لے گا عمیر

جو نمی آنکھ میں بھر دیتا ہے گفتار کے ساتھ


عمیر قریشی

No comments:

Post a Comment