Wednesday, 13 January 2021

ترا خیال بہت دور لے گیا مجھ کو

 تِرا خیال بہت دُور لے گیا مجھ کو

زمانہ دیر تلک ڈھونڈتا رہا مجھ کو

تِرے بجائے تِری جستجو کے رستے میں

خیال و خواب کا اک سلسلہ ملا مجھ کو

صبا کے دوش سے لپٹی ہوئی صدا کی طرح

ہر ایک لمحہ اڑاتا ہوا چلا مجھ کو

مِرے نصیب کہ کھُل کر گناہ بھی نہ کیے

ہر ایسے وقت میں یاد آ گیا خدا مجھ کو

وہ تیرا پیار سے مِلنا ہو یا بچھڑنا ہو

ہر ایک واقعہ اک خواب سا لگا مجھ کو

کھِلا جو پھول تو کانٹا سا چبھ گیا جاوید

بہار آنے کا دھڑکا سا لگ گیا مجھ کو


عبداللہ جاوید

No comments:

Post a Comment