مرکزِ دشت تک اب شہر کی زد ہے، حد ہے
اب تو مجنوں بھی خریدارِ خِرَد ہے، حد ہے
مکتبِ عشق سے پڑھنے کا ہے سب کو دعویٰ
جیب میں سب کی کوئی نقلی سند ہے، حد ہے
میں تِرے عشق میں اِس حال تک آ پہنچا ہوں
جو بھی دیکھے مجھے کہہ اٹھتا ہے؛ حد ہے، حد ہے
پہلے خود اس نے پڑھائی مجھے الٹی پٹی
اب مِرے سامنے دل صورتِ سد ہے، حد ہے
ناک میں دم ہے مِرا اب مِری سیارگی سے
میری منزل نہ جنوں ہے، نہ خرد ہے، حد ہے
دل ہے لا وقت کی ٹہنی پہ لہکتا ہوا پھول
نہ کوئی اس کا ازل ہے، نہ ابد ہے، حد ہے
بھائی ارمان! نہ تم قیس کو کچھ جانتے ہو
نہ تمہارے لیے فرہاد سند ہے، حد ہے
علی ارمان
No comments:
Post a Comment