اک شخص ملا تھا، مجھے اب یاد نہیں ہے
اچھا تھا، برا تھا، مجھے اب یاد نہیں ہے
کچھ خاص تھا اس میں جو مجھے بھول گیا ہے
دھوکہ تھا، دغا تھا، مجھے اب یاد نہیں ہے
اک اس سے نہیں سب ہی سے دھوکہ ہی ملا تھا
کس کس سے ملا تھا، مجھے اب یاد نہیں ہے
"بِن آپ کے تو سانس بھی ہم کو نہیں آتی“
یہ کس نے کہا تھا، مجھے اب یاد نہیں ہے
اک عشق تھا جو بعدِ خدا تجھ سے ہوا تھا
نیکی تھی، گُنہ تھا، مجھے اب یاد نہیں ہے
میں تو اسی کا تھا، یہ مجھے یاد ہے لیکن
کیا وہ بھی مِرا تھا، مجھے اب یاد نہیں ہے
جلتا تھا سرِ شام کسی آنکھ میں ہر روز
وہ دل تھا، دِیا تھا، مجھے اب یاد نہیں ہے
یہ شاعری، یہ عشق، یہ جنون، یہ وحشت
سب کس کو دیا تھا، مجھے اب یاد نہیں ہے
اک طرزِ طلب تھی، میں جسے بھول چکا ہوں
اک حرفِ دعا تھا، مجھےاب یاد نہیں ہے
اک دلنشیں سا یار تھا، درویش سا، کم گو
اک 'ارسِ' گدا تھا، مجھے اب یاد نہیں ہے
کہتے ہیں زمانے میں کوئی ایک علی تھا
میں نے بھی سنا تھا، مجھے اب یاد نہیں ہے
علی سرمد
No comments:
Post a Comment