زمیں پر آخری لمحے
اندھیرے دوڑتے ہیں رات کی ویران آنکھوں میں
چراغوں کی جڑوں سے روشنی کا خون رِستا ہے
سمندر کشتیوں میں چھید کرتی مچھلیوں سے
بھر گئے ہیں
منزلوں کی خواہشوں سے دور ہے اب ہر مسافر
اور صدا اس قید گہ سے
بھاگ جانے کی کڑی کوشش میں زخمی ہے
زمیں فالج زدہ ہونٹوں کی جنبش سے
ٹھہر جانے کو شاید کہہ رہی ہے
ہوا کی سانس ٹھوکر کھا رہی ہے
میں جو موجود تھا
رات کی بے اماں وسعتوں میں
کہیں کھو گیا آسماں
جس کو دیکھا گیا تھا کبھی، اب زمیں دوز ہے
اور زمیں نامُرادوں کی ایک پھیلتی بے نشاں قبر ہے
رینگتے آنکھ کے منظروں میں کئی اجنبی شہر ہیں
آج تک جن سے کوئی بھی گزرا نہیں
کیوں کسی کو کسی پہ بھروسہ نہیں
دُور جاتے ہوئے کارواں کو بلاتا ہوں میں
ریت پر نقشِ پا کی طرح مٹتا جاتا ہوں میں
میں جو موجود تھا، اب کہیں بھی نہیں
جسم و جاں میرے بس میں نہیں
میں کسی کے تو کیا، اپنی بھی دسترس میں نہیں
وقت کی دُھول ہوں میں
مجھے اب یقین ہو چلا ہے
میں خلقت کے پیچھے کہیں رہ گیا ہوں
اور اب میں زمانوں سے اپنے قدم
ملانے کی کوشش میں بھی تھک چکا ہوں
جہاں بھیڑ میں لوگ بہتے چلے جا رہے ہیں
وہیں راستے کے اس اگلے کنارے پہ رک کر
فلک پر رواں، بادلوں سے الجھتی
کئی خواب بُنتی نظر کے تماشے میں مشغول ہوں
گزرتے ہوئے وقت کی دُھول ہوں میں
شاہد شیدائی اپنا دیباچہ اس طرح انجام کرتے ہیں
فیصل ہاشمی
No comments:
Post a Comment