Tuesday, 12 January 2021

اس ستمگر سے جو ملا ہو گا

 اس ستم گر سے جو ملا ہو گا

جان سے ہاتھ دھو چکا ہو گا

عشق میں تیرے ہم جو کچھ دیکھا

نہ کسی نے کبھی سنا ہو گا

آہ قاصد تو اب تلک نہ پھرا

دل دھڑکتا ہے کیا ہوا ہو گا

تُو ہی آنکھوں میں تُو ہی ہے دل میں

کون یاں اور تجھ سوا ہو گا

اے میاں گل تو کھل چکے پہ کبھو

غنچۂ دل مِرا بھی وا ہو گا

دیکھ تو فال میں کہ وہ مجھ سے

نہ ملے گا ملے گا کیا ہو گا

ہے یقیں مجھ کو تجھ ستمگر سے

دل کسی کا اگر لگا ہو گا

نالہ و آہ کرتے ہی کرتے

ایک دن یوں ہی مر گیا ہو گا

کوئی ہو گا کہ دیکھ اسے بیدار

دل و دیں لے کے تج رہا ہو گا


میر محمد بیدار

No comments:

Post a Comment