Tuesday, 12 January 2021

خون پلکوں پہ سر شام جمے گا کیسے

 خون پلکوں پہ سر شام جمے گا کیسے

درد کا شہر جو اجڑا تو بسے گا کیسے

روز و شب یادوں کے آسیب ستائیں گے کوئی

شہر میں تجھ سے خفا ہو کے رہے گا کیسے

دل جلا لیتے تھے ہم لوگ اندھیروں میں مگر

دل بھی ان تیز ہواؤں میں جلے گا کیسے

کس مصیبت سے یہاں تک تِرے ساتھ آئے تھے

راستہ تجھ سے الگ ہو کے کٹے گا کیسے

آخر اس کو بھی ہے کچھ جعفری دنیا کا خیال

دیر تک رات گئے ساتھ رہے گا کیسے


فضیل جعفری

No comments:

Post a Comment