Tuesday, 12 January 2021

وقت کے ظالم سمندر میں پریشانی کے ساتھ

 وقت کے ظالم سمندر میں پریشانی کے ساتھ

ڈوب جاتا ہے کوئی کیوں اتنی آسانی کے ساتھ

میری سانسوں کی مہک کا بھی بہت چرچا ہوا

رات جب میں نے گزاری رات کی رانی کے ساتھ

میں وہی ہوں، اور میرا مرتبہ مجھ سے بلند

نام اپنا لے رہا ہوں میں بھی حیرانی کے ساتھ

میں نے تو کچھ آستیں کے سانپ گنوائے تھے بس

تم نے کیوں آنکھیں ملائی ہیں پشیمانی کے ساتھ

اک تبسم کا بھرم آباد ہونٹوں پر کئے

جی رہے ہیں لوگ اپنی اپنی ویرانی کے ساتھ

مر گیا مصداق بھی سلطان ٹیپو کی طرح

دیکھ کر ہم راز اپنا دشمنِ جانی کے ساتھ


مصداق اعظمی

No comments:

Post a Comment