Tuesday, 6 April 2021

غموں کی دھول میں شاید بکھر گیا ہو گا

 غموں کی دُھول میں شاید بکھر گیا ہو گا

بچھڑ کے مجھ سے وہ جانے کدھر گیا ہو گا

وہاں وہاں مِری خُشبو بکھر گئی ہو گی

جہاں جہاں بھی مِرا ہمسفر گیا ہو گا

میں اس کے ہجر میں کتنا اُداس رہتا ہوں

یہ سُن کے اُس کا بھی چہرہ اُتر گیا ہو گا

یہ کس نے خواب میں آ کر جگا دیا مجھ کو

مجھے یقیں ہے وہ سوتے میں ڈر گیا ہو گا

خوشی کی دھوپ نے سنولا دیا تھا رنگ اُس کا

اُداس ہو کے وہ کتنا نکھر گیا ہو گا

نکل پڑا تھا سرِ شام چاند کی صورت

مِری تلاش میں وہ تا سحر گیا ہو گا

جو مِرے دل کو قفس میں بدل گیا جرار

وہ اپنے گھر کو بھی ویران کر گیا ہو گا


آغا جرار

No comments:

Post a Comment