پیار گر ہے تو یہ کہنے میں قباحت کیسی
خود کو منوا نہ سکے جو، وہ محبت کیسی
یہ ضروری تو نہیں جاں کے عِوض دل بھی مِلے
عشق کے کھیل میں جاناں! یہ تجارت کیسی
جان و دل دے کے کبھی دیکھ لو ہمدم میرے
سونپ دینے میں ہُوا کرتی ہے راحت کیسی
سامنے آ کے اچانک یہ سمجھ سکتے ہو
سُونی آنکھوں میں اُترتی ہے شرارت کیسی
تُم نے خود مجھ سے کہا تھا نا چلے جانے کو
اب یہ سامان بندھا دیکھ کے حیرت کیسی
ایک لمحے میں مِری رُوح کا سودا کر لو
جان دینی ہے تو پھر اس میں یہ مہلت کیسی
مجھ سے مت پُوچھ مِرا ساتھ تِرا حق ہے کرن
چیز اپنی ہو تو پھر اس میں اجازت کیسی
کرن رباب نقوی
No comments:
Post a Comment