تم ساز ہو، مضراب ہو، انداز ہو، احساس ہو
تم زندگی، تم بندگی، اے ہم نشیں تم خاص ہو
تم بے کلی کی ہو دوا، تم بے بسی میں التجا
تم ہی دعا، تم ہی ردا، مجھ بے اماں کی آس ہو
تم مرحلہ، منزل ہو تم، تم آرزو، حاصل ہو تم
تم صبح کی پہلی ضیا، گر دشت میں تم پیاس ہو
تم گیت ہو، سنگیت ہو، تم شاعری، تم ریت ہو
میں بھر دوں جس میں زندگی، تم وہ حسیں قرطاس ہو
میں ماورائے وصل ہوں میں ہجر سے آزاد ہوں
ناطہ ہے میرا روح کا، تم دور ہو یا پاس ہو
حرا زرین
No comments:
Post a Comment