Monday, 5 April 2021

اندھیری شب دیا سا جل رہا ہے

 اندھیری شب دِیا سا جل رہا ہے

تیرا سایہ بھی ہمراہ چل رہا ہے

سُلگتی پہر کا دُکھ شام بن کر

میری آنکھوں کے رستے ڈھل رہا ہے

میرے اندر خاموشی گونجتی ہے

بدن میرا کبھی جنگل رہا ہے

وہ جب بھی ٹُوٹ کر برسا ہے مجھ پر

ترستی رُوح میں جل تھل رہا ہے

برف سے ہاتھ نے چھوا تھا مجھ کو

بدن اب تک وہیں سے جل رہا ہے

اُداسی آنسوؤں میں بہہ نہ جائے

جُدائی کا زمانہ چل رہا ہے

کیا میں نے ارادہ جب سفر کا

میرے سر پر گھنا بادل رہا ہے

میرے خوابوں کی بنجر کوکھ سُونی

یہ دُکھ اندر ہی اندر پَل رہا ہے


مریم عرفان

No comments:

Post a Comment