کیا ایک نظم کا دل اتنا کشادہ ہو سکتا ہے
کیا ایک نظم کا دل اتنا کشادہ ہو سکتا ہے کہ
اس میں وہ لڑکی اپنے دکھ سمیت پناہ لے لے
جو اپنے باپ سے حاملہ ہوئی
کیا ایک نظم کا دل اتنا کشادہ ہوسکتا ہے
کہ اس میں وہ بچے اپنے احساسِ کمتری سمیت چھپ جائیں
جنہیں ان کی مائیں ان کے باپ کا نام نہیں بتا سکیں
کیا ایک نظم کا دل اتنا کشادہ ہوسکتا ہے
جس میں ایک مجذوبہ
اپنے ڈر سمیت اپنے جسم کی خوشبو کو چھپا دے
جسے شکاری کتے سونگھتے پھر رہے ہیں
کیا ایک نظم کا دل اتنا کشادہ ہو سکتا ہے
جس میں خواجہ سرا اپنی مجبوریوں اور تھکن سمیت دن بھر سو سکیں
جو رات بھر ناچ کر اپنے پیٹ کا جہنم بھرنے کے لیے ایندھن جمع کرتے رہے
کیا ایک نظم کا دل اتنا کشادہ ہو سکتا ہے
جس میں وہ سہمی ہوئی لڑکی رہ سکے جو صحن میں لگے شجر سے خوفزدہ ہوئی
جس کی ٹہنیوں نے اس کے سر سے چادر کھینچنے کی کوشش کی
کیا ایک نظم کا دل اتنا کشادہ ہوسکتا ہے
کیا ایک نظم کا دل عورت کی کوکھ سے زیادہ کشادہ ہوسکتا ہے
جس نے مرد کی وحشت کو پناہ دی
کیا ایک نظم کا دل اس عورت کے دل سے زیادہ کشادہ ہو سکتا ہے
جس نے یہ سب دکھ سہے
خوش بخت بانو
No comments:
Post a Comment