Monday, 5 April 2021

ہے محبت سے آشنائی مری

 ہے محبت سے آشنائی مِری

یہ کوئی کم نہیں کمائی مری

مشورہ عشق میں لیا خود سے

کس نے کرنی تھی رہنمائی مری

خود کو گھاؤ ضرور لگنے تھے

آئینے سے ہوئی لڑائی مری

کہہ دیا تھا یہ شرط ہارو گے

تم نہیں سہہ سکے جُدائی مری

دیکھ کر لوگ مسکراتے رہے

اس نے چھوڑی نہیں کلائی مری

ہجر کا لفظ ہی ادا نہ ہوا

اتنی آواز لڑ کھڑائی مری


گل حوریہ

No comments:

Post a Comment