Monday, 5 April 2021

حادثہ کون سا ہوا پہلے

 حادثہ کون سا ہوا پہلے

رات آئی کہ دن ڈھلا پہلے

اب میں پانی تلاش کرتا ہوں

بھوک تھی میرا مسئلہ پہلے

خواب تھے میری دسترس میں دو

میں نے دیکھا تھا دوسرا پہلے

اب تو وہ بھی نظر نہیں آتا

دکھ رہا تھا جو راستہ پہلے

اب تو یہ بھی قدیم لگتا ہے

کس قدر شہر تھا نیا پہلے

اس سے پہلے کہ ٹوٹتی امید

ٹوٹ جانا تھا حوصلہ پہلے

پھول کے زخم بعد میں پوچھیں

ہاتھ کانٹوں سے چھل گیا پہلے


عین عرفان

No comments:

Post a Comment