مطلبی لوگ ہیں، مطلب لیے در تک پہنچے
سانس کا مسئلہ لے کر تِرے گھر تک پہنچے
جو میرے قد کے برابر نہیں آ سکتے تھے
گاڑ کر مجھ کو زمیں میں مِرے سر تک پہنچے
وہ جو کشکول لیے پھرتے تھے قریہ قریہ
آج وہ لوگ سبھی لعل و گہر تک پہنچے
جو گزرتے تھے کبھی خوف سے لرزے لرزے
وہ بگولے بھی مِرے ریت کے گھر تک پہنچے
علی سمجھے تھے لگائے تھے شجر کیوں میں نے
جب مِرے بعد میرے بچے ثمر تک پہنچے
علی بیراگ
No comments:
Post a Comment