چل نہیں سکتے ہیں ہم وقت کی رفتار کے ساتھ
وقت نے ہم کو لگا رکھا ہے دیوار کے ساتھ
ہم ہی حالات سے سمجھوتہ نہیں کر پائے
ورنہ انسان بدل جاتے ہیں ادوار کے ساتھ
ہم کو کر سکتی تھی مغلوب تیری ایک نظر
تُو نے دیکھا ہی نہیں ہم کو کبھی پیار کے ساتھ
تُو معلق ہے فضاؤں میں زمیں گیر ہوں میں
کیا تقابل کروں اپنا تیرے معیار کے ساتھ
پاؤں پہ آئے گی دستار جھکاؤ گے جو سر
سر کٹاتے ہیں جھکاتے نہیں دستار کے ساتھ
دُکھ ہزیمت کا نہیں، ہاں مگر اس بات کا ہے
تُو نے کاٹا ہے مِرا سر میری تلوار کے ساتھ
خالد مصطفیٰ
No comments:
Post a Comment