وفا کے وعدے وہ سارے بُھلا گیا چُپ چاپ
وہ میرے دل کی دیواریں ہلا گیا چپ چاپ
غمِ حیات کے تپتے ہوئے بیاباں میں
ہمیں وہ چھوڑ کے تنہا چلا گیا چپ چاپ
نہ جانے کون سا وہ بد نصیب لمحہ تھا
جو غم کی آگ میں مجھ کو جلا گیا چپ چاپ
میں جس کو چُھوتا ہوں عشرت وہ زخم دیتا ہے
وہ پھول ایسے چمن میں کھلا گیا چپ چاپ
عشرت گودھروی
No comments:
Post a Comment