Tuesday, 12 October 2021

سرخ مینار پر نصب زمانے میں ہے اک گھڑی

سرخ مینار پر نصب

زمانے میں ہے اک گھڑی

آخری کھونٹ میں

سرخ مینار پر نصب

کوئی بھی اس سمت جاتا نہیں ہے

کئی راز ہیں اس جگہ کے

مگر کوئی رازوں سے پردہ اٹھاتا نہیں ہے

زمانے کی آنکھوں سے اوجھل کھڑی

دائمی وقت پر اک گھڑی

میں جڑا ہوں

اسی دائمی وقت سے

جو زمانے سے اوجھل کھڑے

سرخ مینار والی گھڑی پر کھڑا ہے

مگر کون جانے 

گھڑی کون سے وقت پر

منجمد ہو گئی تھی

وہ کیسی پُراسرار طاقت تھی

جو وقت آگے بڑھاتی تھی

اور سوئیوں کی پُراسرار ٹک ٹک

زمانوں میں رستے بناتی تھی

ماضی کو ماضی بھرے غار میں ڈالتی تھی

اجالوں میں لاتی تھی دن

چپ درختوں کے تاریک سائے میں

گم صم کھڑی

کچھ بتاتی نہیں ہے

وہ کیسی نگاہوں کو بھرتی ہوئی

صبحِ خنداں تھی

کیسی سیہ رات تھی

کس پہاڑی کے پیچھے

افق لال کرتے ہوئے شام اتری تھی

جب وہ گھڑی رک گئی تھی

کوئی تو بتائے

کوئی تو زمانوں کے بوجھل، سیہ رنگ

پردے اٹھائے

ہوا کوئی آئے، اڑائے

مجھے لے کے جائے

درختوں کے پیچھے کھڑے

سرخ مینار کے پاس 

کہنہ گھڑی سے ملائے مِرا وقت

میں خود ہوں بچھڑا ہوا وقت سے

جا کے خود کو گھڑی سے ملاؤں

گھڑی بھر گھڑی کو میں دیکھوں

میں لَے میں اترتے ہوئے

خود کو

طاقت بھری سوئیوں سے ملاؤں

میں خود چل پڑوں

میں گھڑی کو چلاؤں


اقتدار جاوید

No comments:

Post a Comment