سرخ مینار پر نصب
زمانے میں ہے اک گھڑی
آخری کھونٹ میں
سرخ مینار پر نصب
کوئی بھی اس سمت جاتا نہیں ہے
کئی راز ہیں اس جگہ کے
مگر کوئی رازوں سے پردہ اٹھاتا نہیں ہے
زمانے کی آنکھوں سے اوجھل کھڑی
دائمی وقت پر اک گھڑی
میں جڑا ہوں
اسی دائمی وقت سے
جو زمانے سے اوجھل کھڑے
سرخ مینار والی گھڑی پر کھڑا ہے
مگر کون جانے
گھڑی کون سے وقت پر
منجمد ہو گئی تھی
وہ کیسی پُراسرار طاقت تھی
جو وقت آگے بڑھاتی تھی
اور سوئیوں کی پُراسرار ٹک ٹک
زمانوں میں رستے بناتی تھی
ماضی کو ماضی بھرے غار میں ڈالتی تھی
اجالوں میں لاتی تھی دن
چپ درختوں کے تاریک سائے میں
گم صم کھڑی
کچھ بتاتی نہیں ہے
وہ کیسی نگاہوں کو بھرتی ہوئی
صبحِ خنداں تھی
کیسی سیہ رات تھی
کس پہاڑی کے پیچھے
افق لال کرتے ہوئے شام اتری تھی
جب وہ گھڑی رک گئی تھی
کوئی تو بتائے
کوئی تو زمانوں کے بوجھل، سیہ رنگ
پردے اٹھائے
ہوا کوئی آئے، اڑائے
مجھے لے کے جائے
درختوں کے پیچھے کھڑے
سرخ مینار کے پاس
کہنہ گھڑی سے ملائے مِرا وقت
میں خود ہوں بچھڑا ہوا وقت سے
جا کے خود کو گھڑی سے ملاؤں
گھڑی بھر گھڑی کو میں دیکھوں
میں لَے میں اترتے ہوئے
خود کو
طاقت بھری سوئیوں سے ملاؤں
میں خود چل پڑوں
میں گھڑی کو چلاؤں
اقتدار جاوید
No comments:
Post a Comment