سکوتِ شام کے سارے نشاں لیے پھِرا میں
بجھے چراغ تو آخر دھواں لیے پھرا میں
نشیبِ عمر میں ممکن ہے کام آ جائے
وہ ایک زخم ، جسے رائیگاں لیے پھرا میں
تمام عمر تِرے شہرِ نارسائی میں
قدیم خواب کی اک داستاں لیے پھرا میں
سرائے دہر میں جائے قیام تھی ہی نہیں
جو ایک ہجر کراں تا کراں لیے پھرا میں
اٹھا کے دوش پہ اپنے، تمہارے ہجراں میں
کوئی خسارہ، کہ اے رفتگاں لیے پھرا میں
قرار جائے فنا میں نہ تھا، سو حسبِ حال
یہ مُشتِ خاک یہاں سے وہاں لیے پھرامیں
سجا کے آنکھ کی خاموش پُتلیوں میں نعیم
نگار خانۂ سُود و زیاں لیے پھرا میں
نعیم گیلانی
No comments:
Post a Comment