اداس شب میں، کسی کے غم میں نہ چین پایا تو کیا کرو گے
وہ شخص تم کو برستی بارش میں یاد آیا تو کیا کرو گے
ابهی تو غیروں سے تلخیوں پر تمہارے آنسو نکل پڑے ہیں
کسی نے اپنا بنا کے تم کو اگر رُلایا تو کیا کرو گے
وہ جس کے قدموں میں رکهتے آئے ہو ساری خوشیاں جہان بهر کی
اسی نے تیرا قدم قدم پر جو دل دُکهایا تو کیا کرو گے
وہ جس کو کھونے کے ڈر سے تم نے تمام شب ہیں دعائیں مانگیں
تِری دعاؤں نے بھی نہ اپنا اثر دِکهایا تو کیا کرو گے
ابهی تو ہنستے ہو دیکھ کر تم حسن کے بے چَین دل کی حالت
مگر کبهی جو تمہارے اوپر یہ وقت آیا تو کیا کرو گے
حسن رضا
No comments:
Post a Comment