تری ہو چکی ہوں مِرے محرماں
تجھ کشادہ بدن میں محبت بھری رُت کے
تازہ کِھلے پھول چُننے میں دن کٹ گیا
رات آئی تو آنکھوں میں آسودگی سی سمٹ آئی
سب تیرگی چھٹ گئی
تیرے ہونے کا احساس میرے خلاؤں کو بھرنے لگا
اب تِرا میری بانہوں میں ہونا نہ ہونا ضروری نہیں ہے
کہ آنکھوں نے خوابوں میں ملنے کا اک راستہ پا لیا
میرے برفاف ہونٹوں پہ چنگاریاں سی سلگنے لگیں
میرے زرداب گالوں پہ بوسوں کے کتنے گلابوں نے میلا لگایا
یوں جیسے کہ جشنِ بہاراں ہے
اور مطربوں نے ملن کی دھنیں چھیڑی ہیں
پربتوں کی حسیں وادیاں بہتی ندیوں سے
خوشیوں بھرے گیت سنتی رہیں
اور حیسں لڑکیاں اپنے سکھ اور
سہاگوں کے شرمیلے سپنے جو بُنتی رہیں
دونوں عالم پہ پھیلی اداسی
کہیں چھٹ گئی
تیرے ہونے سے روشن سویرا ہوا
زخم ناسور تھے، بھر گئے
تیرے ہونے سے کتنے دُکھوں کا مداوا ہوا
تُو نہیں جانتا
دل کی بنجر زمیں
تیری زرخیز نظروں سے سیراب ہوتی رہی
میری وحشت تِرے بازوؤں کے سرہانے پہ
سر رکھ کے سوتی رہی
تُو نے ہر غم سے مُکتی دِلا کر
مِرے جسم میں عشق کا زر بھرا
کیا تجھے علم ہے میرا دل اپنے جذبات کے سب الاؤ
تِرے نام پر کر چکا
جسم پر غیر کے لمس کا ہر نشاں بھسم ہونے کو ہے
تجھ سے لمحوں میں جنموں کا ناطہ جڑا
تجھ سے بڑھ کر مِرے واسطے
اب کوئی دوسرا کیسے ہو پائے گا
میں زمان و مکاں کی حدوں سے
بغاوت کئے بس تِری ہو چکی ہوں
مِرے محرماں
بشریٰ شاہ
بشریٰ شہزادی
No comments:
Post a Comment