اک عجب سا درد سينے میں چُھپا رہتا ہے دوست
موسمِ قُربت میں بھی یہ دل خفا رہتا ہے دوست
اک حیا کے سامنے اس کے ستم مانند پڑے
اس کی آنکھوں میں خدا جانے خدا رہتا ہے دوست
میرے سجدوں میں کوئی تاثیر اب باقی نہیں
اب خدا سے رابطہ ہر پل کٹا رہتا ہے دوست
قیس مجھ کو ساتھ رکھتا ہے شرابوں کی طرح
دشت میں ہر روز اب میلا لگا رہتا ہے دوست
قہقہوں کی بارشیں مایوس کرتی ہیں مجھے
مسخروں کے سامنے بھی منہ بنا رہتا ہے دوست
اِس طرح گزری ہے اپنی زندگی پردیس میں
جس طرح بچہ کوئی ماں سے جدا رہتا ہے دوست
ہاں خدا نے بادشاہت دی ہے ایسے شخص کو
جسم جس کا کٹ چکا پر سر ڈٹا رہتا ہے دوست
ذاکر حسین
No comments:
Post a Comment