جادۂ خواب کہیں گرد میں تحلیل نہ ہو
دیکھ اے ماہ جبیں! شوق کی تذلیل نہ ہو
حسن ہو اور ستم کیش نہ ہو، حیرت ہے
یعنی اوزان میں ہو فعل، مفاعیل نہ ہو
کام اکٹھے کریں دونوں کسی منصوبے پر
اور ایسا ہو کہ اس کی کبھی تکمیل نہ ہو
تتلیاں دوست ہیں، مانا، مگر اے پھول بدن
لب پہ ہر وقت رہیں، اتنی بھی اب ڈھیل نہ ہو
دل کا کہنا ہے؛ یہ آنکھ اس کا زیاں کرتی ہے
پس مِری مان، اسے خون کی ترسیل نہ ہو
کیسے کردار نبھے ایسے جہاں میں کہ جہاں
کوئی ہمزاد نہ ہو، چاند نہ ہو، جھیل نہ ہو
لطف ہے گرچہ تِرے مختصراً ہوں میں بھی
مگر اتنا بھی نہیں یار! کہ تفصیل نہ ہو
زبیر حمزہ
No comments:
Post a Comment