کوئی دھنی، کوئی بے زر ہے کیا کیا جائے
کہ اپنا اپنا مقدر ہے،۔ کیا کیا جائے
وہ جس کے واسطے خود کو مٹا دیا ہم نے
وہ بے وفا ہے، ستمگر ہے کیا کیا جائے
کتابیں کاپیاں ہونی تھیں ان کے ہاتھوں میں
پر ان کے ہاتھ میں پتھر ہے کیا کیا جائے
عمل کی فصل اُگے کیسے اے خطیبِ وقت
دلوں کی دھرتی ہی بنجر ہے کیا کیا جائے
ترس رہا ہے کوئی بوند بوند پانی کو
کسی کے پاس سمندر ہے کیا کیا جائے
برے کی کیسے ہو پہچان چہرے سے دانش
برائی ذہن کے اندر ہے کیا کیا جائے
اسرار دانش
No comments:
Post a Comment