رہے گی ابتلا، ایسا نہیں ہے
نہ پوری ہو دعا، ایسا نہیں ہے
پکارو اس کو ہر رنج و الم میں
وہ ہو جائے خفا، ایسا نہیں ہے
شکستہ ناؤ امت کی سنبھالے
کوئی بھی ناخدا ایسا نہیں ہے
چلے آؤ، اسے کوفہ نہ سمجھو
"مرا شہرِ وفا ایسا نہیں ہے"
پڑے جس میں پرکھنے کی ضرورت
محبت سلسلہ ایسا نہیں ہے
جفاؤں پر خفا ہوتا ہے تابش
مگر چاہے برا، ایسا نہیں ہے
تابش صدیقی
No comments:
Post a Comment