تھکا ہارا ہوں مدت سے کہیں سستا نہیں پایا
خرانہ وقت کا کھویا ہے، ورنہ کیا نہیں پایا
سوائے ذاتِ اقدس کے کوئی پرساں نہیں دیکھا
کچھ ایسے زخم پوشیدہ ہیں جو دِکھلا نہیں پایا
مری بربادئ دل کا تعلق تھا وفاؤں سے
کہ سب کچھ کر دیا لیکن انہیں جتلا نہیں پایا
خیالوں کی ہم آہنگی بہت دشوار جو ٹھہری
سمجھ پایا نہ خود کچھ، اور کچھ سمجھا نہیں پایا
اجڑ جانے کا قصہ اس نے جو پوچھا تو میں بولا
''یہ دل ظالم بہت ہے میں اسے بہلا نہیں پایا''
تجھے طاہر! سمجھ پانا بہت دشوار لگتا ہے
کہ تُو موجِ رواں ساحل سے بھی ٹکرا نہیں پایا
طاہر عبید تاج
No comments:
Post a Comment